پاکستان میں سوشل میڈیا سے پیسہ کمانے والوں کے لیے ایف بی آر (FBR) کے نئے سخت قوانین

 

پاکستان میں سوشل میڈیا سے پیسہ کمانے والوں کے لیے ایف بی آر (FBR) کے نئے سخت قوانین

وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہونے والی آمدنی پر نئے ٹیکس قوانین (Tax Rules) متعارف کروا دیے ہیں۔ اب یوٹیوبرز، فیس بک پیج مالکان، ٹک ٹاکرز اور انسٹاگرام انفلوئنسرز کو اپنی کمائی پر حکومت کو ٹیکس دینا ہوگا۔

نئے ٹیکس قوانین کی اہم خصوصیات:



ٹیکس کی شرح (Tax Rates): ایف بی آر کے مطابق، وہ تمام افراد جو سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں، ان کی آمدنی پر 0.25% سے لے کر 5% تک ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔ اگر آپ فائلر (Filer) ہیں تو ٹیکس کی شرح کم ہوگی، جبکہ نان فائلر (Non-Filer) کو بھاری ٹیکس دینا پڑے گا۔

رجسٹریشن اب لازمی ہے: وہ تمام مواد تخلیق کرنے والے (Content Creators) جن کی ماہانہ آمدنی ایک خاص حد سے زیادہ ہے، ان کے لیے ایف بی آر کے 'Iris' پورٹل پر رجسٹر ہونا اور اپنا این ٹی این (NTN) بنوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

بیرونی ترسیلات (Foreign Remittances): اگر آپ کی کمائی ڈالرز میں باہر سے آ رہی ہے، تو اس پر ٹیکس کی چھوٹ حاصل کرنے کے لیے بینک سے تصدیق شدہ دستاویزات (PRC) فراہم کرنا ضروری ہوں گی۔ بصورتِ دیگر بینک آپ کی رقم سے خود بخود ٹیکس کاٹ لے گا۔

ایڈورٹائزنگ اور اسپانسر شپ: کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی اسپانسر شپ، برانڈ ڈیلز اور اشتہارات سے ہونے والی کمائی کو بھی اب 'انکم فرام ادر سورسز' (Income from Other Sources) کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پروفیشنلز کو اب کیا کرنا ہوگا؟

اپنا این ٹی این (NTN) فوری طور پر رجسٹر کروائیں۔

ہر سال اپنے ٹیکس گوشوارے (Tax Returns) جمع کروائیں تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔

اپنی بینک اسٹیٹمنٹ اور آمدنی کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post