
احمد پور سیال کی بستی میانی کا رہائشی انیس الرحمن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی عمر بمشکل 18 برس تھی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ تقریباً
دو ماہ سے انیس الرحمٰن کو آن لائن پیسے کمانے والی گیمز کی لت پڑ گئی تھی جو دراصل آن لائن جوئے کی ایک شکل ہے۔ یہ گیمز نامعلوم افراد کی جانب سے چلائی جا رہی ہیں اور پاکستان میں مختلف انداز سے بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر کی جا رہی ہے انیس الرحمٰن مبینہ طور پر ادھار لے کر ان گیمز میں پیسے لگاتا رہا اور مسلسل نقصان کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گیا کچھ روز قبل اس کے والدین اسے علاج کے لیے نیورو فزیشن کے پاس بھی لے گئے جہاں دماغ کے بعض حصوں میں سوزش کی تشخیص ہوئی اہل خانہ کے مطابق گزشتہ روز بھی انیس الرحمٰن اپنے والدین سے 30 ہزار روپے کا مطالبہ کرتا رہا تاکہ گیم کھیل کر پہلے سے ہارا ہوا پیسہ واپس حاصل کر سکے اور پھر ان گیمز کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے، تاہم والد کے پاس رقم نہ ہونے پر وہ شدید مایوسی کا شکار ہو گیا ڈپریشن کے عالم میں انیس نے مبینہ طور پر گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا اور اپنے بوڑھے والدین کو زندگی بھر کا غم دے گیا انیس الرحمن کا نمازِ جنازہ آج صبح 11 بجے ادا کیا جائے گا اہل علاقہ سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے اہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن جوا گیمز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ نوجوانوں کو اس لعنت سے بچایا جا سکےاحمد پور سیال میں 18 سالہ انیس الرحمن کی خودکشی محض ایک موت نہیں بلکہ آن لائن جوئے کی لعنت کا شاخسانہ ہے۔ والدین کا اکلوتا بیٹا ان "موت کی گیمز" کی بھینٹ چڑھ گیا۔
محمد عرفان ہرپل