پاکستان میں مہنگائی اور معاشی حالات پر بحث اب روز کا معمول بن چکی ہے۔ کبھی آٹا مہنگا ہوتا ہے تو کبھی بجلی کے بل غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال جو ہر ذہن میں گردش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ: آخر ہماری برداشت کی حد کہاں ختم ہوگی؟
ذرا تصور کریں کہ کل صبح حکومت اعلان کر دے کہ پیٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے. یہ خبر یقیناً کسی قیامت سے کم نہیں ہوگی، لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
فرض کریں حکومت ایک عجیب و غریب شرط رکھ دے کہ جو بھی پیٹرول ڈلوائے گا، اسے پمپ پر 10 چھتر بھی مارے جائیں گے. یہ بات شاید سننے میں مزاحیہ لگے، لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کے ردعمل پر غور کریں تو منظر کچھ ایسا ہوگا:
سوشل میڈیا کا طوفان: فیس بک اور ٹوئٹر پر میمز کا سیلاب آ جائے گا۔ لوگ غصے کے بجائے لطیفوں سے اس دکھ کو مٹانے کی کوشش کریں گے.
صبر کی تلقین: کچھ لوگ کہیں گے، "ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، ہمیں قربانی دینی چاہیے".
عجیب منطق: کچھ تو یہاں تک کہہ دیں گے کہ، "بھائی، اصل مسئلہ چھتر نہیں، پمپ پر چھتر مارنے والوں کی کمی ہے، اگر عملہ بڑھا دیا جائے تو لائن جلدی ختم ہو سکتی ہے".
شام کو ٹاک شوز میں تجزیہ کار اس کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈالیں گے اور ہم اگلے دن خاموشی سے لائن میں لگ کر 500 روپے کا پیٹرول بھی ڈلوائیں گے اور 10 چھتر بھی کھا لیں گے.
حقیقت کیا ہے؟
یہ منظر محض ایک افسانہ نہیں بلکہ ہماری تلخ حقیقت ہے۔ ہم نے ہر مشکل اور ہر ناانصافی کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا ہے۔ ہم شور تو مچاتے ہیں، لیکن پھر خاموشی سے اس بوجھ کو اپنے کندھوں پر لاد لیتے ہیں۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا یہ ہماری برداشت ہے، یا ہماری بے بسی؟ اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے.
