ایک انکار، ایک ضد اور ایک ہنستی کھیلتی زندگی کا خاتمہ!
معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں "انکار"
سننے کی سکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جھنگ کی طالبہ کنزہ کا واقعہ محض ایک قتل نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جہاں مرد کی انا ایک عورت کی زندگی سے زیادہ قیمتی سمجھی جانے لگی ہے۔واقعہ کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق، کنزہ کو چنیوٹ کے قریب ایک بس سے زبردستی اتار کر اغوا کیا گیا۔ اس جرم کے پیچھے کوئی دشمنی یا مالی لالچ نہیں بلکہ ایک "انکار" تھا۔ کنزہ کے والد نے ایک شخص کی جانب سے آنے والے رشتے کو ٹھکرا دیا تھا، جسے اس ضدی انسان نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔
دو دن کی تلاش کے بعد، کنزہ کی لاش ملی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زہر دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وہ جملہ جس نے روح کانپا دی
ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کا یہ اعتراف کہ "اگر وہ میری نہیں ہو سکتی تو کسی کی بھی نہیں ہو سکتی"، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس قدر بیمار ذہنیت کے ساتھ جی رہے ہیں۔ کسی انسان کو اپنی ملکیت سمجھنا اور اس کی مرضی یا اس کے خاندان کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا درندگی کی انتہا ہے۔
معاشرتی سوالات:
آخر کب تک بیٹیاں مردوں کی انا اور جھوٹی شان کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟
کیا کسی کو "نا" کہنے کا حق صرف جان دے کر ہی ادا کرنا پڑے گا؟
ہمارے قانون کی گرفت اتنی کمزور کیوں ہے کہ مجرم سرِ عام بسوں سے لڑکیوں کو اتارنے کی ہمت کرتے ہیں؟
ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
صرف سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلانے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہمیں:
تربیت: اپنے بیٹوں کو "نا" (No) سننے اور دوسروں کی مرضی کا احترام کرنا سکھانا ہوگا۔
انصاف: ایسے درندوں کو سرِ عام عبرتناک سزائیں دینی ہوں گی تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔
تحفظ: تعلیمی اداروں اور سفری راستوں پر خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
کنزہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، لیکن اس کا کیس ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل کوئی اور بیٹی کسی اور "انا پرست" کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔
