پاکستان کے دل، شرقپور شریف کے نواحی گاؤں بھوئے وال میں سولہ سال پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف مقامی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا
بلکہ پورے علاقے میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی۔ یہ داستان غازی سلیم نامی ایک کم عمر نوجوان کی ہے، جس نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی۔واقعہ کیا تھا؟
بھوئے وال میں ایک محفل نعت کے انعقاد کے موقع پر لگائے گئے سٹیکرز، جن پر جناب رسالت مآب خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے نام مبارک لکھے ہوئے تھے، ایک شخص نے گستاخی کرتے ہوئے اتار کر گندی نالی میں پھینک دیے۔ یہ منظر دیکھتے ہی دیکھتے علاقے کے مسلمانوں میں شدید غصہ پھیل گیا۔
عوام کا ردعمل اور پولیس کی کارروائی
گاؤں والوں نے جب یہ ناپاک حرکت دیکھی تو ان کے جذبات مجروح ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں مسلمان اکٹھے ہو گئے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گستاخی کے مرتکب شخص کو گرفتار کر کے تھانہ شرقپور شریف منتقل کر دیا۔ شیخوپورہ پولیس کی بڑی نفری بھی تھانے پہنچ چکی تھی تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے۔
ایک نوجوان کی غیرت کا مظاہرہ
اسی دوران موضع عیسن سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر طالب علم نوجوان نے غیرتِ ایمانی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ اس نے کسی کی پولیس یونیفارم پہنی اور تھانہ شرقپور شریف پہنچ گیا۔ چونکہ پولیس عام لوگوں کو تھانے میں داخل نہیں ہونے دے رہی تھی، لیکن اس نوجوان نے پولیس یونیفارم پہنی ہوئی تھی، اس لیے وہ آسانی سے تھانے میں داخل ہو گیا اور سیدھا حوالات تک چلا گیا جہاں گستاخ کو بند کیا ہوا تھا۔
بہادری اور خودسپردگی
نوجوان نے حوالات تک پہنچ کر فائرنگ کی اور گستاخی کے مرتکب شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف گستاخ کو سزا دی بلکہ فوری طور پر خود کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا۔
غازی سلیم کے نام سے مشہور
اس بہادری پر سلیم نامی نوجوان پورے علاقے میں غازی سلیم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ انہوں نے قتل کے مقدمے کا سامنا کیا اور سولہ سال جیل میں گزارے۔
جیل میں تعلیم اور حفظِ قرآن
غازی سلیم نے جیل میں رہتے ہوئے قرآن پاک حفظ کیا اور دینی تعلیم حاصل کی۔ ان کی اس کوشش اور آئینِ پاکستان کے قوانین کے مطابق قید میں کمی ہو گئی، اور بالآخر سولہ سال کی قید کے بعد آج انہیں رہائی نصیب ہو گئی۔
نتیجہ
غازی سلیم کی داستان غیرتِ ایمانی، ناموسِ رسالت کے تحفظ اور قربانی کی ایک بے مثال مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ناموسِ رسالت پر آنچ نہیں آنے دیں گے، اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

