ٹک ٹاک شہرت اور عبرت ناک انجام: اوٹ لوفرہ کی موت اور ہمارے لیے سبق

 

سوشل میڈیا کی عارضی چکا چوند اور خاموش موت: ایک عبرت ناک انجام

آج سوشل میڈیا کی دنیا سے ایک افسوسناک خبر آئی کہ مشہور ٹک ٹاکر اوٹ لوفرہ (Out Loafra) اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ 1.2 ملین فالوورز، روزانہ کی لائیو سٹریمنگ، مہنگے گفٹس اور وقتی شہرت— سب کچھ یہیں رہ گیا، اور پیچھے رہ گئی تو صرف ایک خاموشی۔

شہرت آسان ہے، مگر عزت مشکل



آج کے دور میں وائرل ہونا یا فالوورز بنانا مشکل نہیں، لیکن عزت اور ایک اچھا نام چھوڑ کر جانا اصل امتحان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نامناسب لائیوز اور غیر اخلاقی مواد کے ذریعے شہرت اور کمائی ہو رہی تھی، مگر قدرت کا کرنا دیکھیں کہ عید جیسے مبارک دن پر یہ سفر تمام ہوا اور زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

کیا فالوورز کام آئے؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج نہ وہ 12 لاکھ فالوورز کام آئے، نہ وہ ورچوئل گفٹس، اور نہ وہ شور جو لائیو سیشنز کے دوران مچا رہتا تھا۔ انسان کے چلے جانے کے بعد اس کے پیچھے صرف اس کے اعمال اور وہ کردار رہ جاتا ہے جو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔

"انسان جب مرتا ہے تو دنیا پوچھتی ہے کیا چھوڑ کر گیا، مگر فرشتے پوچھتے ہیں کیا لے کر آیا۔"

سوشل میڈیا: کھیل یا پہچان؟

افسوس اس بات کا ہے کہ شہرت کی ہوس میں کچھ لوگ ہر حد پار کر دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جب موت کا پردہ گرتا ہے تو یہ دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا محض ایک ایپ یا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے کردار کی پہچان بن چکا ہے۔ آپ کی ایک ویڈیو، ایک جملہ یا ایک لائیو سیشن آپ کے جانے کے بعد آپ کا "صدقہ جاریہ" بھی بن سکتا ہے اور "گناہِ جاریہ" بھی۔

آئیے عہد کریں!

وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں:

ٹک ٹاک اور دیگر ایپس کو فحاشی کا اڈہ بنانے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔

ایسا مواد اپ لوڈ کریں جس پر کل لوگ آپ کے حق میں دعا کریں، نہ کہ افسوس یا ملامت۔

یاد رکھیں، سکرین بند ہو جائے گی، اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہو سکتا ہے، مگر اعمال کا ریکارڈ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

دعا:

اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے، ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ایسی زندگی اور ایسی موت نصیب کرے جس پر دنیا اور آخرت دونوں میں شرمندگی نہ ہو۔ آمین۔

Post a Comment

Previous Post Next Post